غیبی حقائق
انسان
ہمیشہ سے اپنے آغاز اور انجام کی حقیقت جاننے کا خواہشمند رہا ہے۔ کیا ہم کسی خالق
کی تخلیق ہیں، یا محض فطرت کے اندھے اتفاق کا نتیجہ ہیں؟ کیا ہماری زندگی کا کوئی
مقصد ہے یا ہم بے معنی پیدا کیے گئے ہیں؟ یہ سوال جو ہر دور میں انسان کو بے چین
کرتے رہے ہیں، اور آج بھی ہمارے دل و دماغ کو جھنجھوڑتے ہیں۔
کیا
اس کائنات میں خیر و شر کی پہچان کے لیے ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے؟ یا رہنمائی کا
کوئی انتظام بھی کیا گیا ہے؟ کیا نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد انسان کو بھٹکنے
کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، یا خدا نے ہدایت کے اور بھی راستے پیدا کیے ہیں؟
ہم
دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ظالم آزاد گھوم رہے ہیں، فساد برپا کر رہے ہیں۔ کیا انہیں
کبھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، یا پھر سرکشی کے لیے انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا
ہے؟ شیاطین دنیا میں اگر پائے جاتے ہیں تو ان کی حقیقت اور نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ
انسان کے دل و دماغ کو بہکانے کی قوت رکھتے ہیں یا پھر محض افواہیں ہیں؟
یہ
سوالات دلوں میں طوفان برپا کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم آنکھیں کھولیں، تو ان کے جواب
کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں۔
ہاں،
انسان کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک عظیم خالق کی تخلیق ہے۔ وہ خالق جس
نے اس کائنات کو حکمت اور منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ وہی خالق جو انسان کے لیے
رہنمائی کا انتظام بھی کرتا ہے۔ اس نے انبیاء کو بھیجا، کتابیں نازل کیں، اور حق و
باطل کو واضح کر دیا۔
نبوت
کا سلسلہ ختم ہوا، مگر خدا کی ہدایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس نے علم، عقل، اور
فطرت کو انسان کے لیے نشانیاں بنا دیا۔ اس نے قرآن جیسی کتاب کو محفوظ کر دیا، جو
رہتی دنیا تک سچائی کا پیغام دیتی رہے گی۔
اور
جہاں تک ظالموں کی بات ہے، تو یہ دنیا ان کے لیے امتحان ہے، مگر ان کے لیے کوئی
راہ فرار نہیں۔ وہ ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، جہاں کوئی جھوٹ نہیں
چلے گا، کوئی عذر کام نہیں آئے گا۔
شیطانوں
کی حقیقت بھی واضح ہے۔ وہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، اس کی راہ میں کانٹے
بچھاتے ہیں، مگر خدا نے انسان کو ان سے لڑنے کا ہتھیار بھی دیا ہے—ایمان، دعا، اور
صبر۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جن سے ہم شیاطین کا
مقابلہ کرتے ہیں۔
یہ
دنیا آزمائش ہے، مگر اندھیرا ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اس آزمائش کا مقصد ہماری روحوں کو
نکھارنا، ہمارے ارادوں کو آزمانا، اور ہمیں آخرت کی تیاری کے لیے تیار کرنا ہے۔ یہ
سفر بے مقصد نہیں۔ یہ ایک امتحان ہے جس کا انعام جنت ہے، اور انجام حق و عدل کی
فتح ہے۔
یہ
کہانی، انسان کی کہانی، صرف سوالوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے جواب کا آئینہ بھی
ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی قریب ہے، خدا قریب ہے، اور کامیابی اسی کی راہ
میں ہے۔ یہ کہانی، ہماری کہانی، روشنی کا راستہ دکھاتی ہے۔