صرف خدا کا سمجھا ہوا

صرف خدا کا سمجھا ہوا

 

صرف خدا کا سمجھا ہوا

یہ دنیا ایک بازار ہے۔ یہاں ہر چیز بکتی ہے۔ خواب، دعائیں، خوشیاں۔۔۔ سب کے دام لگتے ہیں۔ مگر ہم؟ ہم ان بکے ہوئے خوابوں میں اپنے حصے کی روشنی ڈھونڈنے نہیں نکلے۔ ہم وہ ہیں جو اپنی امیدیں بیچنے نہیں آئے۔ ہم نے اپنی امیدیں اُس کے قدموں میں رکھ دی ہیں، جو ہمیں جانتا ہے، جو ہمیں سمجھتا ہے۔

یہ گٹھلیاں۔۔۔ یہ چھوٹے چھوٹے بیج۔۔۔ زمین میں دفن ہوتے ہیں، صبر کرتے ہیں، اندھیروں کو سہتے ہیں، تب جا کے درخت بنتے ہیں۔ مگر اس عمل کو کون دیکھتا ہے؟ لوگ تو صرف سایہ دیکھتے ہیں، پھل دیکھتے ہیں۔ ہماری زندگی بھی ایسی ہے۔ ہم اندھیروں میں دفن ہو جاتے ہیں، صبر کرتے ہیں، وقت کا بوجھ سہتے ہیں، اور پھر ایک دن سر اٹھاتے ہیں۔ مگر لوگ صرف ہماری بلندی دیکھتے ہیں، ہمارا سفر نہیں۔

یہ روشنی۔۔۔ دیکھنے میں چھوٹی لگتی ہے، مگر اندھیروں کو چیر دیتی ہے۔ لوگ اسے چھوٹا سمجھتے ہیں، کمزور سمجھتے ہیں۔ مگر یہ اپنے حصے کا کام کرتی ہے۔ ہم بھی ایسے ہی ہیں۔چھوٹے، کمزور، مگر اپنی روشنی کے ساتھ زندہ۔

یہ بازار۔۔۔ ہر طرف شور ہے۔ لوگ باتیں کرتے ہیں، سودے کرتے ہیں، مگر سنتا کوئی نہیں۔ ہر کوئی بول رہا ہے، مگر دل خالی ہیں۔ ہم؟ ہم نے شور سے اپنا دامن بچایا ہے۔ ہم نے خاموشی میں اپنی آواز سنی ہے۔ ہمیں لوگوں کی توجہ نہیں چاہیے، ہمیں اُس کی توجہ کافی ہے، جس کے سامنے دل بولتے ہیں اور آنکھیں گواہی دیتی ہیں۔

یہ کھجوریں، دیکھو۔۔۔ زمین کی تاریکی سے نکلتی ہیں، دھوپ سہتی ہیں، پھر جا کے میٹھا بنتی ہیں۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ اندھیروں سے گزرنا پڑتا ہے، سختی جھیلنی پڑتی ہے، تب جا کے مٹھاس ملتی ہے۔ مگر یہ مٹھاس سب کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہ صرف اُن کے لیے ہے جو صبر کرتے ہیں، جو بھروسہ رکھتے ہیں، جو گرنے کے بعد اُٹھنا جانتے ہیں۔

ہمیں دنیا نے نہیں سمجھا، نہ کبھی سمجھے گی۔ کیونکہ ہم نے اپنی پہچان خدا سے لی ہے۔ دنیا ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھتی ہے، مگر وہ نہیں جانتی، یہ خاموشی ہماری طاقت ہے۔ یہ خاموشی ہماری دعا ہے، ہماری امید ہے۔

یہ دیواریں گواہ ہیں۔۔۔ ان پر وقت کی دھول جمی ہے، مگر یہ اپنی جگہ کھڑی ہیں۔ وقت کی سختی سہہ کر بھی قائم ہیں۔ ہم بھی ایسے ہی ہیں۔ وقت کے دھچکے سہتے ہیں، مگر اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں اس کا سہارا ہے، جو زمانوں کا مالک ہے۔

یہ دریا۔۔۔ بہتا رہتا ہے، رکنے کا نام نہیں لیتا۔ یہی زندگی ہے۔ رکنے والوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے، بہنے والوں کو آگے لے جاتی ہے۔ مگر ہمیں کسی دریا کے بہاؤ کی فکر نہیں۔ ہمیں بس اُس دریا کی تلاش ہے، جو جنت کی نہروں میں بہتا ہے۔

ہمیں کسی انسان کے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کسی دنیاوی آواز کی تلاش نہیں۔ کیونکہ ہمیں خدا نے سمجھا ہے۔۔۔ اور وہی کافی ہے۔ لوگ ہمیں اکیلا سمجھتے ہیں، مگر ہم تنہا نہیں۔ ہم اُس کے سائے میں ہیں، جس کا سایہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ہم خوشبو کی طرح ہیں۔ نظر نہیں آتے، مگر محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور جب یہ دنیا ہمیں بھول جائے گی، تب بھی ہماری دعائیں آسمان پر لکھی جائیں گی۔

 

تہذیب کی دنیا

جیسے ہی سورج افق پر طلوع ہوتا ہے، ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کرتے ہیں جو سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور دلوں کو جوڑتا ہے۔ تہزیب کی دنیا میں خوش آمدید، جہاں روایت جدت سے ملتی ہے، اور قدیم حکمت جدید عجائبات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی